سعودی عرب میں صرف خواتین عملے کے ساتھ اندرون ملک پہلی پرواز

128
Print Friendly, PDF & Email

سعودی عرب کی ایئرلائن فلائی ادیل نے اندرون ملک پہلی ایسی پرواز کی ہے جس کا تمام تر عملہ خواتین پر مشتمل تھا۔ جدید ترین بوئنگ A320 طیارے کے ذریعے یہ تاریخی پرواز دارالحکومت ریاض سے جدہ کے لیے چلائی گئی۔

عرب نیوز کے مطابق ہفتے کے روز ایئرلائن کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر یہ اعلان کیا گیا کہ سعودی ایوی ایشن کی تاریخ میں پہلی بار فلائی ادیل نے اپنی پرواز تمام خواتین عملے کے ساتھ چلائی ہے جس میں زیادہ تر خواتین سعودی تھیں۔

Advertisement

سعودی خواتین نے زندگی کے بہت سے ایسے شعبوں میں خود کو منوایا ہے جہاں طویل عرصے سے مردوں کی اجارہ داری رہی ہے۔ اب ان میں ہوابازی کا شعبہ بھی شامل ہو گیا ہے۔

سات خواتین پر مشتمل عملے کے ساتھ  فلائی ادیل کی فلائٹ 117 میں 23 سالہ یارا جان شریک پائلٹ کی حیثیت سے موجود تھیں جو سب سے کم عمر سعودی خاتون پائلٹ بھی ہیں۔ اس موقع پر یارا جان نے کہا کہ سعودی خاتون کی حیثیت سے یہ اُن کے لیے انتہائی فخر اور خوشی کا لمحہ ہے، اس ایئر لائن میں اُنہیں مثبت تبدیلی کا موقع ملنے پر ہمیشہ خوشی رہے گی۔

اس فلائٹ کی شریک پائلٹ یارا جان نے 2019 میں فلوریڈا میں فلائٹ اسکول سے گریجویشن کیا اور ایک سال قبل سعودی عرب کی اس ایئرلائن میں شمولیت اختیار کی۔

واضح رہے کہ سعودی خواتین پائلٹس کی تعداد میں حال ہی میں اضافہ ہوا ہے جن میں تین نام نمایاں ہیں۔ سعودی کمرشل پائلٹ لائسنس کے ساتھ پرواز کرنے والی پہلی خاتون پائلٹ ہنادی زکریا الہندی ہیں۔

راویہ الریفی متحدہ عرب امارات سے بین الاقوامی سطح پر ایئربس A320 اڑانے والی پہلی خاتون پائلٹ ہیں اور شریک پائلٹ یاسمین المیمانی سعودی عرب میں تجارتی طیاروں میں پہلی شریک پائلٹ کے طور پر کام کر رہی ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.