پاکستانی بزنس مین احمد علی ریاض ملک کامدرز انڈومنٹ مہم میں ایک ملین درہم کا عطیہ

71
Print Friendly, PDF & Email

پاکستانی بزنس مین احمد علی ریاض ملک کامدرز انڈومنٹ مہم میں ایک ملین درہم کا عطیہ

مجھے مدرز انڈومنٹ مہم کا حصہ بننے پر فخر ہے

جو یواے ای  سے دنیا کو محبت اور یکجہتی کا پیغام دیتی ہے(احمدعلی ریاض ملک)

دبئی(اردوویکلی)::پاکستانی بزنس مین احمد علی ریاض ملک نے دبئی کے نائب صدر، وزیر اعظم اور حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد آل مكتوم کی جانب سے شروع کی گئی مدرز انڈومنٹ مہم کی حمایت میں ایک ملین درہم عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس مہم کا مقصد ایک بلین درہم کا وقف فنڈ قائم کرکے دنیا بھر میں لاکھوں افراد کی تعلیم کی حمایت کرنا ہے۔
یہ مہم، محمد بن راشد آل مكتوم گلوبل انیشیٹو  کے تحت رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے موقع پر شروع کی گئی ہے جو انسانی ہمدردی کے کاموں کے لیے متحدہ عرب امارات کے نقطہ نظر کی عکاسی کرتی ہے، اور دنیا بھر میں سب سے زیادہ کمزور آبادیوں کی مدد کے لیے ایک مددگار ہاتھ بڑھاتی ہے۔
احمد علی ریاض ملک نے کہا کہ، "مجھے مدرز انڈومنٹ مہم کا حصہ بننے پر فخر ہے جو متحدہ عرب امارات سے دنیا کو محبت اور یکجہتی کا پیغام دیتی ہے۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ یہ عطیہ اس مہم کے پرعزم اہداف کو حاصل کرنے میں مدد دے گا، جس کا مقصد تعلیم اور ہنر مندی کی تعمیر کے ذریعے پسماندہ افراد کو بااختیار بنانا ہے۔”
انہوں نے مزید کہاکہ، "ہم رمضان مہم کے دوران اپنی ماؤں کا احترام کرنے کا موقع فراہم کرنے پر محمد بن راشد آل مكتوم گلوبل انیشیٹو کے مشکور ہیں، یہ ایک ایسی کوشش کا حصہ ہے جو آئندہ نسل کے لیے بہتر مستقبل کا وعدہ کرتی ہے۔”
مدرز انڈومنٹ مہم ایک قدم آگے ہے جو گزشتہ برسوں میں رمضان کے دوران شروع کی گئی خیراتی اور انسانی ہمدردی کی مہمات کی کامیابی پر مبنی ہے، جس میں دنیا بھر کی برادریوں کی ترجیحات اور اہم ضروریات کو پورا کیا گیا ہے۔مزید برآں، یہ مہم والدین کا احترام، مہربانی، ہمدردی اور یکجہتی کی اقدار کو فروغ دیتی ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات کے قائدانہ انسانی کردار کو مستحکم کرتے ہوئے ایک پائیدار انڈومنٹ قائم کرتی ہے جو تعلیم اور بااختیاربنانے کی پیش کش کرتی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ شراکت داری میں انڈومنٹ فنڈ سے حاصل ہونے والی رقم کو دنیا بھر میں لاکھوں افراد کی تعلیم اور تربیت میں مدد فراہم کرنے کے لئے استعمال کیا جائے گا، تاکہ انہیں ایک آزاد، مستحکم زندگی گزارنے کے لئے ضروری اوزار اور مہارتیں فراہم کی جا سکیں۔(نیوزوتصویربشکریہ وام)۔
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.